براٹساویلا(رپورٹنگ آن لائن)سلوواکیا کے مشیر قومی سلامتی میروسلیو لیجیک نے بدنام زمانہ ایپسٹن جنسی اسکینڈل کے معاملے پر استعفی دے دیا تاہم کسی قسم کے غلط کام کے تاثر کو رد کردیا۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سلوواکیا کے وزیراعظم رابرٹ فیکو کے مشیر قومی سلامتی نے جیفری ایپسٹن اسکینڈل سے متعلق نئے فائلز سامنے آنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے اور مذکورہ ای میلز میں لڑکیوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔سلوواکیا کے مشیر قومی سلامتی میروسلیو لاجچاک نے جاری بیان میں کسی قسم کے غلط کام کے تاثر کو رد کیا اور ایپسٹن جرائم کی مذمت کی۔ایپسٹسن اسکینڈل کی نئی فائلز میں جاری ای میلز کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان جملوں کا تبادلہ عام اور غیررسمی تھا اور اس کا کسی عملی کام سے تعلق نہیں ہے لیکن استعفی دوں گا تاکہ اس صورت حال کو وزیراعظم پر حملوں کے لیے استعمال نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے کسی مجرمانہ کام یا غیراخلاقی اقدامات کی وجہ سے نہیں بلکہ میں نہیں چاہتا کہ وزیراعظم فیکو کو ایک ایسے کام کی سیاسی قیمت چکانی پڑے جس کا ان کے فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سلوواکیا کے وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انہوں نے مشیر قومی سلامتی میروسلیو لاجچاک کا استعفی قبول کرلیا ہے اور کہا کہ وہ سفارت کاری اور خارجہ پالیسی میں انتہائی شان دار تجربے کے حامل ہیں۔









