642

اینٹی کرپشن کے بعد نیشنل ہائی ویز پولیس بھی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ پر چڑھ دوڑی

شہباز اکمل جندران۔۔۔

ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا ستارہ ان دنوں گردش کا شکار ہے۔پہلے اینٹی کرپشن پنجاب لاہور میں ایک کے بعد ایک مقدمہ درج کررہی ہے جبکہ اب نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز پولیس نے بھی ایکسائز پولیس کے اختیارات کو چیلنج کرنا شروع کردیا ہے۔
اینٹی کرپشن
زونل کمانڈنٹ نارتھ نیشنل ہائ وے اینڈ موٹروے پولیس ڈی آئی جی وصال محمد فحرسلطان نے کہا ہے کہ قومی شاہراہ پر ایکسائز کے سکواڈوں کی چیکنگ اور ناکہ بندیوں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اینٹی کرپشن
ایکسائز پولیس نے اگر کنفرم اطلاع پر کاروائی کرنا ہو گی تو موٹروے حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی جبکہ جنرل چیکنگ کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائیگی۔

ڈی آئی جی موٹرویز پولیس کا یہ بیان قانون کے برعکس ہے کیوں ایکسائز پولیس پنجاب ایکسائز ایکٹ 1914 اور انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت صوبے میں منشیات اور منشیات فروشوں کا قلع قمع کرنے کے لئے کہیں بھی ناکہ لگا سکتی ہے۔اور کارروائی عمل میں لاسکتی ہے۔
اینٹی کرپشن
اس سلسلے میں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے اختیارات کو واضح کرتے ہوئے انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے ایس آر او 57(1)97کا ریفرنس دیا جاتا ہے۔جس میں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہمراہ چیکنگ اور ناکہ بندی کا اختیار دیا گیا ہے۔

تاہم ڈی آئی جی نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹرویز پولیس ان قوانین کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔جس سے ایک طرف دونوں محکموں کے مابین تنازعہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے تو دوسری طرف منشیات فروشوں کے وارے نیارے ہونے کا امکان بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں