اینٹی کرپشن 447

اینٹی کرپشن ملزمان کی فوٹیج میڈیا کو شئیر نہ کرے۔عدالت

شہباز اکمل جندران۔۔۔

سینئر سول جج لاہور عباس رسول نے اینٹی کرپشن حکام کو پابند کیا ہے کہ آئیندہ کسی بھی ہتھکڑیوں میں جکڑے ملزم کی فوٹیج یا تصاویر رسمی یا سوشل میڈیا پر شئیر نہ کی جائیں۔

عبدالوحید میو انسپکٹر ایکسائز ریجن سی لاہور کے مقدمے میں عدالت کے روبرو بتایا گیا کہ ہتھکڑیوں میں جکڑے انسپکٹر ایکسائز کی ماڈلنگ کے انداز میں فوٹیج بنا کر میڈیا کو شئیر کی گئی۔جس پر عدالت نے اینٹی کرپشن کے فتیشی افسر اسسٹنٹ ڈائیریکٹر اعتزاز و دیگر پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ہوئے۔آئیندہ ایسا نہ کرنے کا حکم دیا۔
اینٹی کرپشن
جواب میں تفتیشی افسر نے آئیندہ کے لئے ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

قبل ازیں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ انسپکٹر عبدالوحید کی دوسرے مقدمہ نمبر 30 میں بھی گرفتاری ڈال دی گئی ہے۔

اس موقع پر انسپکٹر عبدالوحید کے وکلا ایڈووکیٹ ملک خالد اور ایڈووکیٹ شہباز اکمل جندران پیش ہوئے۔
شہباز اکمل جندران
شہباز اکمل جندران نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر بے بنیاد ہے۔ایف آئی آر میں راولپنڈی میں پہلے سے رجسٹرڈ گاڑیوں کی لاہور میں رجسٹریشن بیان کی گئی ہے۔جو کہ ناممکن ہے۔اس پر تفتیشی افسر نے تسلیم کیا کہ ایف آئی آر میں راولپنڈی غلطی سے درج ہوگیا ہے۔

شہباز اکمل جندران کی طرف سے عدالت کے روبرو بیان کیا گیا کہ عبدالوحید کو جوڈیشل آرڈر کے بغیر گرفتار کیا گیا ہے جوکہ اینٹی کرپشن رولز کے خلاف ہے۔

شہباز اکمل جندران کی طرف سے عدالت کے روبرو مزید دلائل دیتے ہوئے کہا گیا کہ پی پی سی کے سیکشن 468 اور 471 کے تحت مقدمہ اسی صورت درج ہوسکتا ہے۔اگر ملزم سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی کرتا ہے۔اور اگر جعلسازی کا ریکارڈ اینٹی کرپشن کے پاس موجود ہے تو پھر کس ریکارڈ کے ژصول کے لئے محکمے کو جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

عدالت نے انسپکٹر عبدالوحید کو مقدمہ نمبر 27 میں دو دن کے لئے 9 دسمبر تک جبکہ مقدمہ نمبر 30 میں چار دن کے لئے 11 دسمبر تک جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن کے حوالے کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں