وفاقی حکومت مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کو 610 ارب روپے کے بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ایف بی آر جولائی سے مارچ تک تقریباً 9.3 کھرب روپے کے محصولات جمع کر سکا، جو کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی جانب سے مقررہ ہدف سے نمایاں طور پر کم ہے۔
اس دوران محصولات میں صرف 10 فیصد اضافہ ہوا، جو سالانہ ہدف حاصل کرنے کیلیے درکار رفتار کا تقریباً نصف ہے۔حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے بھی محصولات پر منفی اثر ڈالا، صرف مارچ کے مہینے میں تقریباً 100 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث درآمدات متاثر ہوئیں، جس سے 65 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی، جبکہ گیس کی فراہمی میں تعطل کے باعث کھاد کے کارخانوں نے بھی متوقع ٹیکس سے 35 ارب روپے کم ادا کیے۔








