چینی میڈیا 36

ایران-امریکہ مزاکرات بارے پاکستان کی سفارتی کامیابی نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چینی میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی۔ اگرچہ اس دوران کوئی ٹھوس پیشرفت سامنے نہیں آئی، تاہم امن عمل کے تسلسل کے لیے امید کی فضا برقرار رہی۔ اس سفارتی کامیابی نے فوری طور پر بین الاقوامی برادری کی توجہ حاصل کر لی۔ تاہم، خطے اور دنیا بھر میں پاکستان کی تعریف کرنے والوں کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ مایوس بھی ہیں: ہندوستانی میڈیا اور رائے عامہ میں واضع بے چینی پھیلی ہوئی ہے، اور وہ اس اہم بین الاقوامی ثالثی میں خود کو پس منظر میں دھکیلے جانے کو بے بسی سے دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے امریکہ۔ایران مذاکرات میں ثالثی کی ذمہ داری سنبھالنے کی بنیادی وجہ اس کی مستقل اور خود مختار خارجہ پالیسی ہے۔پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ موقف اختیار کیا ہے، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔ طویل عرصے سے، پیچیدہ بین الاقوامی ماحول میں، پاکستان نے ہمیشہ تمام ممالک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا ہے، کسی بھی گروہ بندی میں شامل نہیں ہوا اور عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ مساوات، باہمی اعتماد اور دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے پر مبنی اس سفارتی فلسفے نے پاکستان کو قابل اعتماد بین الاقوامی ساکھ عطا کی ہے،

اور اسے امریکہ اور ایران دونوں کے لیے قابل قبول ثالث بنایا ہے۔ یہ فعال ثالثی، پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے اور تنازعات کے پر امن حل کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش ہے، اور اس کی جامع سفارتی صلاحیت اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ اس عمل میں چین اور پاکستان نے گہرا تعاون کیا اور منظم اقدامات کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے “چین۔پاکستان حل” پیش کیا، جس کے پانچ بنیادی نکات امریکہ۔ایران جنگ کے پر امن حل کی بنیاد بنے۔
چین اور پاکستان کی جانب سے، ہمہ موسمی اسٹریٹجک شراکت دار ہونے کے ناطے اس مرتبہ بھی مل کر کام کرنا کوئی عارضی اقدام نہیں تھا بلکہ انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کے تصور کا عملی اظہار تھا۔ پاکستان نے اپنی جغرافیائی برتری کو استعمال کرتے ہوئے مکالمے کا پل تعمیر کیا، جبکہ چین نے اپنے ثالثی کے وسیع تجربے اور بین الاقوامی اثر و رسوخ کے ذریعے اس کی حمایت کی۔

دونوں ممالک نے “پاکستان کی طرف سے پل تعمیر کرنا اور چین کی طرف سے حمایت فراہم کرنا” کا باہمی تعاون کا نمونہ قائم کیا۔ اس دوران پاکستان نے فعال کردار ادا کرتے ہوئے امریکی اور ایرانی نمائندوں کو اسلام آباد مذاکرات کے لیے مدعو کیا، جبکہ چین نے مشرق وسطی کے خصوصی ایلچی کے ذریعے شٹل سفارت کاری اور دس سے زیادہ ممالک کے وزرائے خارجہ سے ہائی فریکوئنسی کالز کے ذریعے مختلف فریقوں کے موقف میں ہم آہنگی پیدا کی۔ پاکستانی اہلکاروں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر چین نے ہنگامی ثالثی کی کوشش نہ کی ہوتی تو ثالثی میں کامیابی مشکل تھی، اور امریکہ نے بھی تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے فائر بندی قبول کرنا چین کی ثالثی کی کوششوں سے جدا نہیں تھا۔

اس کے برعکس، ہندوستانی میڈیا کے رد عمل سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اس اہم بین الاقوامی سفارتی واقعے میں ہندوستان غیر فعال ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ ہندوستانی حکومت کی موقع پرستانہ سفارتی پالیسی ہے۔ ہندوستان طویل عرصے سے ایک عظیم طاقت بننے کی خواہش رکھتا ہے اور جنوبی ایشیا اور یہاں تک کہ عالمی امور میں غالب مقام حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کی خارجہ پالیسی میں مستحکم اقداری بنیاد اور اخلاقی حمایت کی ہمیشہ کمی رہی ہے۔

ہر چیز قلیل مدتی مفادات کے تابع ہے، جس کی سب سے واضح مثال حال ہی میں ہندوستانی وزیر اعظم کا اسرائیل کا دورہ تھا، جہاں دونوں اطراف کے تعلقات انتہائی قریبی نظر آئے ۔بھارت نے خطے میں اسرائیل کی جانب سے پیدا کردہ سنگین انسانی بحران کو نظر انداز کرتے ہوئے، فوجی، تکنیکی اور دیگر عملی فوائد حاصل کرنے کے لیے ظلم کرنے والوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا لیا۔ بھارت کی جانب سے کی گئی اس پیش رفت کو حقارت آمیز قرار دینا غلط نہیں ہوگا۔

ایک حقیقی باوقار عظیم طاقت کا اثر و رسوخ نہ صرف معاشی اور فوجی طاقت سے پیدا ہوتا ہے بلکہ بین الاقوامی انصاف پر قائم رہنے، انسانیت کا احترام کرنے اور کثیر جہتی نظام کی حفاظت کرنے سے بھی آتا ہے۔ امریکہ نے عالمی سطح پر طویل عرصے تک دوہرے معیارات اپنائے ہیں، اپنے ذاتی مفادات کے لیے پابندیاں عائد کی ہیں اور تنازعات کو ہوا دی ہے، جس سے اس کی بین الاقوامی ساکھ پہلے ہی ختم ہو چکی ہے۔ ہندوستان نے نہ صرف اس سے سبق نہیں سیکھا بلکہ اخلاقی اقدار کے منافی اس طریقہ کار کی تقلید کرتے ہوئے، سفارت کاری کو محض مفادات کے تبادلے کا ذریعہ سمجھا۔ اس اخلاقی حدود سے عاری موقع پرستانہ رویے نے اسے بین الاقوامی تنازعات میں غیر جانبدار ثالث بننے کی اہلیت اور موقع دونوں سے محروم کر دیا ہے۔

“ایک عظیم طاقت کو ایک عظیم طاقت کی مانند برتاؤ کرنا چاہیے،اور ایک عظیم طاقت کی ذمہ داری اٹھانی چاہیے”۔ ہندوستان کی سفارتی ناکامی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اخلاقی حمایت کے بغیر عظیم طاقت بننے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ اگر ہندوستان موقع پرستانہ سوچ کو ترک کر کے اپنی خارجہ پالیسی میں اصولی بنیاد اور انصاف پسندی کو فروغ نہیں دیتا، تو چاہے اس کا ملک کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، وہ حقیقی عظیم طاقت کا وقار قائم نہیں کر سکتا۔

مستقبل کی عالمی سیاست میں کامیابی کا انحصار محض طاقت پر نہیں بلکہ وژن اور اخلاقیات پر بھی ہوگا۔ پاکستان اور چین نے عملی اقدامات کے ذریعے امن اور ذمہ داری کی اہمیت کو واضح کیا ہے، جبکہ ہندوستان کی مایوسی نے دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ اخلاقی حدود کھو دینے پر، عظیم طاقت بننے کا خواب محض ایک سراب رہ جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں