واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن)امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران اب بے نقاب ہو چکا ہے اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔امریکی وزیر نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کا مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں تھا لیکن نظام درحقیقت تبدیل ہو چکا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران کے میزائل اب کوئی خطرہ نہیں رہے اور یہ وضاحت کی کہ امریکہ ہی ایران کے ساتھ جنگ کی شرائط طے کر رہا ہے۔وزیر دفاع نے اشارہ کیا کہ ایران میں امریکی مشن اس کے میزائل اور بحریہ کو تباہ کرنا اور اسے ایٹمی ہتھیاروں کے قبضے سے محروم کرنا ہے۔جنگ کے مختصر دورانیے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ہیگسیتھ نے تبصرہ کیا کہ یہ عراق نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی نہ ختم ہونے والی جنگ کی مانند ہے۔امریکی وزیر دفاع نے امریکی حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے دوران ٹال مٹول کر رہا تھا اور مزید کہا کہ ایرانی آپریشن میں جانی نقصان بھی ہوگا۔
امریکی وزیر نے ایران میں کسی بھی قسم کی امریکی زمینی مداخلت کے امکانات کی تردید کی اور ایران کے خلاف امریکی آپریشن “ایپک ریج” کو محض ایک فضائی کارروائی قرار دیا۔ہیگسیتھ کے یہ بیانات پیر کی صبح ایران پر مشترکہ امریکی اسرائیلی حملے کے حوالے سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں سامنے آئے۔پریس کانفرنس کے دوران امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بتایا کہ حملے کے پہلے 24 گھنٹوں کے دوران ایران میں 1000 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ڈین کین نے انکشاف کیا کہ آپریشن کے آغاز میں کمانڈ سینٹرز اور میزائل لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا اور یہ بھی واضح کیا کہ سائبر کمانڈ نے بھی ایران کے خلاف ان کارروائیوں میں حصہ لیا۔خطے کے ممالک پر ہونے والے ایرانی حملوں کے دفاع کے حوالے سے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی دفاعی صلاحیتیں تعینات کر دی گئی ہیں۔امریکی چیف آف سٹاف نے تصدیق کی کہ امریکی افواج اور خطے کے ممالک کی طرف داغے گئے سینکڑوں صواریخ کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا۔








