راشد لطیف 27

اگست 2016 کو مستقل طور پر کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے، راشد لطیف

کراچی (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان کے سابق کپتان اور معروف کرکٹ تجزیہ کار راشد لطیف نے کہا ہے کہ وہ 22 اگست 2016 کو مستقل طور پر کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے اور اب انہیں اسلام آباد زیادہ پسند ہے جبکہ وہ کراچی کو یاد بھی نہیں کرتے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کراچی کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ راشد لطیف نے کہا کہ شہر میں رہائشی اور کھیلوں کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کراچی کے زیادہ تر لوگ ڈی ایچ اے منتقل ہو رہے ہیں تو ملیر اور دیگر علاقوں کے رہائشی کہاں جائیں گے۔سابق کپتان نے کراچی اور لاہور میں کرکٹ کے زوال پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوںنے کہاکہ ایک وقت تھا جب یہ دونوں شہر کرکٹ کی نرسریاں کہلاتے تھے مگر اب گراؤنڈز ختم کیے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔

راشد لطیف کے مطابق کراچی میں 30 سے 35 کرکٹ گراؤنڈز چائنہ کٹنگ کی نذر ہو چکے ہیں جہاں اب رہائشی فلیٹس تعمیر ہو چکے ہیں، جس کے باعث نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کھیل کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی صورتحال کے باعث کوچز اور سابق کھلاڑیوں کو نجی اکیڈمیز قائم کرنا پڑیں تاہم اکیڈمیز میں محدود تعداد میں ہی کھلاڑیوں کو تربیت دی جا سکتی ہے۔انہوں نے لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ منٹو پارک ایسا مقام تھا جہاں سے پاکستان کے سات کپتان سامنے آئے، مگر اب وہاں سے سڑک گزار دی گئی ہے۔

اسی طرح کراچی کی شاہراہ فیصل پر موجود تین کرکٹ گراؤنڈز بھی ختم ہو چکے ہیں۔راشد لطیف نے زور دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات پر تحقیق کرے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر کراچی سے نئے کھلاڑی سامنے نہیں آ رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں