چین 65

امید ہے کہ چین کی جدت پسندانہ ترقی کے مواقع سے مزید ممالک اور عوام مستفید ہوں گے،چین کی وزارت خارجہ

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس بریفنگ کی صدارت کی۔

ایک نامہ نگار نے سوال کیا کہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، چین دنیا کا پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں گھریلو ایجادات کے موثر پیٹنٹس کی تعداد 50 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔چین نہ صرف ایجادات کے پیٹنٹس کی درخواستوں کے لحاظ سے مسلسل کئی سالوں سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے ، بلکہ چین کے پاس دنیا کے تقریباً 60 فیصد مصنوعی ذہانت کے پیٹنٹس اور تقریباً 66 فیصد روبوٹکس سے متعلق پیٹنٹس بھی موجود ہیں۔ بعض تبصروں میں کہا گیا ہے کہ اس سے چین کی دانشورانہ املاک کی حفاظت کی کوششیں ظاہر ہوتی ہیں، اور یہ چین میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدت پسندی کی سرگرمیوں کا عکاس بھی ہے۔ ترجمان کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

ماؤ نینگ نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں اختراعات کی بات کریں تو اس سال کے چائنا میڈیا گروپ اسپرنگ فیسٹیول گالا میں روبوٹس کی پرفارمنس اور سی ڈانس 2.0 کے ذریعے تیار کردہ نئے سال کی تہنیتی ویڈیوز نے ان پرگہرے تاثرات چھوڑے ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت طرازی کے ثمرات روزمرہ زندگی کو تبدیل کر رہے ہیں اور یہ عوام کو زیادہ سہولت اور خوشگوار حیرت فراہم کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ چین کی سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت طرازی نے ہمیشہ انسانی بہبود کو مرکز میں رکھا ہے، یہ ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال اور ہمہ گیر ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے، اور اس کا مقصد ٹیکنالوجی کے فرق کو کم کرنا ہے۔ ہم مزید کھلے پن کے ساتھ بین الاقوامی تبادلے اور تعاون کو آگے بڑھائیں گے تاکہ چین کی جدت پسندانہ ترقی کے مواقع سے مزید ممالک اور عوام مستفید ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں