امریکی سینیٹ 24

امریکی قانون ”ہائر”بھارتی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار

واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن)بھارت کی مرکزی حزبِ اختلاف کانگریس پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی سینیٹ میں پیش کیا گیا بین الاقوامی ملازمتوں کی منتقلی روکنے سے متعلق مجوزہہائر” بل منظور ہو گیا تو بھارتی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ قانونبھارتی معیشت میں آگ لگا دے گا” اگر اسے عملی شکل دی گئی۔

کانگریس پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مجوزہ قانون سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ امریکہ میں ایک نیا سوچنے کا انداز پروان چڑھ رہا ہے۔ امریکی حلقوں کا خیال ہے کہ جس طرح امریکہ نے اپنیبلیو کالر” یعنی محنت کش طبقے کی ملازمتیں چین کے ہاتھوں کھو دیں، اسی طرح وہوائٹ کالر” یا پیشہ ورانہ ملازمتیں بھارت کے حوالے نہیں کرنا چاہتا۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری برائے ابلاغ عامہ جیرام رامیش نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی ریاست اوہائیو سے سینیٹر برنی مورینو نے اکتوبر میںہائر” قانون پیش کیا تھا جس کے تحت کسی بھی امریکی شخص یا ادارے پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا جو اپنی خدمات بیرونِ ملک منتقل کرے گا۔

یہ بات جرمن خبر ایجنسیڈی پی اے” نے بتائی۔رامیش کے مطابق یہ بل امریکی سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے اور اگر یہ قانون منظور ہوا تو اس کے اثرات بھارت کے آئی ٹی سیکٹر، کاروباری عمل کے آٹ سورسنگ مراکز، مشاورتی اداروں اور عالمی استعداد کے مراکز پر نہایت منفی پڑیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ دیگر ممالک پر بھی اس قانون کا اثر پڑ سکتا ہے لیکن سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا کیونکہ گزشتہ پچیس برسوں میں بھارتی خدماتی برآمدات ایک نمایاں کامیابی کی کہانی بن چکی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں