تیل

امریکی خام تیل کے ذخیرے میں اضافے کے ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں کمی

نیویارک (رپورٹنگ آن لائن)مہنگائی کے حوالے سے امریکی رپورٹ جاری ہونے سے قبل اور صنعت کے اعدادو شمار کے بعد گزشتہ ہفتے امریکی خام تیل کی انوینٹریز میں غیر متوقع اضافے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آگئی جو کہ طلب میں رکاوٹ کی جانب اشارہ کرتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچر 74 سینٹ یا 0.8 فیصد گر کر 95.57 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچر 1.13 ڈالر گر کر 89.37 ڈالر کا ہوگیا۔ یہ آخری بار 88 سینٹس یا ایک فیصد کمی کے ساتھ 89.62 ڈالر فی بیرل تک آیا تھا۔سی ایم سی مارکیٹس کے شنگھائی میں مقیم تجزیہ کار لیون نے کہا کہ تیل کی قیمت اور ایشیائی منڈی میں کمزور رجحان دیکھا گیا، امریکا میں جولائی میں مہنگائی کے اعدادوشمار پر مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال نے آج تیل کی قیمتوں کی واپسی کو محدود کردیا۔صارف اشاریہ انڈیکس (سی پی آئی) رپورٹ بدھ کو عالمی وقت کے مطابق 12 بجکر 30 منٹ پر جاری ہوگی۔

پیٹرول کی قیمت میں تیزی سے کمی کی وجہ سے جولائی میں امریکی صارفین کے لیے قیمتوں میں کم اضافہ متوقع ہے تاہم اس سے فیڈرل ریزرو کو کم از کم شرح سود میں اضافے سے روکنے کی توقع نہیں ہے، جو معاشی سرگرمی اور ایندھن کی طلب کو روک سکتی ہے۔دریں اثنا ء امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعدادوشمار کے حوالے سے مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکی خام تیل کے اسٹاک میں 5 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں تقریباً 22 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا۔عالمی میڈیا کے سروے میں تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی کہ خام تیل کی انوینٹری میں تقریباً ایک لاکھ بیرل کا اضافہ ہوگا۔سرکاری ڈیٹا بدھ کو مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 10 بجے جاری ہوگا۔اونڈا کے سینئر تجزیہ کار ایڈورڈ مویا کا کہنا تھا کہ کمزور ہوتی عالمی معیشت سے جو بھی خام تیل کی مانگ کی تباہی ہوتی ہے، وہ تیل کی قیمتوں کو زیادہ کم نہیں کر سکے گی کیونکہ سپلائی کا آؤٹ لک کم رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ توجہ ایران کے جوہری معاہدے کی بات چیت پر ہے اور یہ انتہائی ضروری سامان فراہم کرنے میں ایک وائلڈ کارڈ ثابت ہوسکتا ہے۔یورپی یونین نے پیر کو 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے کیلئے ‘حتمی’ متن پیش کیا تھا جس سے ایران کی خام تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔یورپی یونین کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ وہ بہت کم ہفتوں میں اس تجویز پر حتمی فیصلے کی توقع رکھتے ہیں۔سپلائی میں اضافہ کرتے ہوئے قازقستان میں کاشگن آئل فیلڈ کے آپریٹر نے گزشتہ ہفتے گیس کے اخراج کی وجہ سے ہنگامی طور پر بند ہونے کے بعد پیداوار بحال کرنا شروع کردی ہے، کاشگن آئل فیلڈ تقریباً 3 لاکھ بیرل یومیہ پیدا کرتا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اگرچہ حال ہی میں ممکنہ عالمی کساد بازاری کے خدشات نے تیل کے مستقبل پر اثرات ڈالے ہیں، امریکی آئل ریفائنرز اور پائپ لائن آپریٹرز کو توقع ہے کہ 2022 کی دوسری ششماہی کے لیے توانائی کی کھپت مضبوط رہے گی۔