اجلاس 34

امریکہ میں نام نہاد “بورڈ آف پیس” کے پہلے اجلاس کا انعقاد

واشنگٹن (رپورٹنگ آن لائن) نام نہاد ” بورڈ آف پیس ” کا پہلا باضابطہ اجلاس امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں منعقد ہوا، جس میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو پرغور کیا گیا۔ اجلاس میں امریکہ نے اعلان کیا کہ غزہ میں تعینات نام نہاد “بین الاقوامی فورس” 12,000 پولیس افسران اور 20,000 فوجیوں پر مشتمل ہوگی، جس کے لیے متعدد ممالک اور خطے افرادی قوت کی مدد فراہم کریں گے۔

اسی دن فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے ایک بیان جاری کیا، جس میں بورڈ آف پیس پر زور دیا گیا کہ وہ غزہ میں حقیقی امن کے حصول کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد “بورڈ آف پیس” کا اصل امتحان اس بات میں مضمر ہے کہ کیا اس کے پاس اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے روکنے اور اسرائیل کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کرنے کی صلاحیت موجود ہے یا نہیں۔بیان کے مطابق ،غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کو کئی ماہ گزر چکے ہیں اور حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مؤثر دباؤ کے بغیر اسرائیل ایسی اپیلوں کو خاطر میں نہیں لاتا۔

ناروے کی وزارت خارجہ کی ترجمان این جوریم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ناروے امریکہ کی جانب سے قائم کردہ نام نہاد “بورڈ آف پیس” میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، “ناروے نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ‘ بورڈ آف پیس’ کا رکن نہیں بنے گا، اور یہ موقف برقرار ہے۔” فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان کنفیورکس نے کہا کہ یورپی کمیشن کی جانب سے امریکہ میں نام نہاد “بورڈ آف پیس” کے اجلاس میں عہدیداروں کو بھیجنے کا اختیار یورپی کونسل کے پاس نہیں تھا، اورمتعلقہ حکام کو اس حوالے سے وضاحت پیش کرنی چاہیے۔

یاد رہے کہ 22 جنوری کو، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ میں 10 سے زائد ممالک اور خطوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک دستاویز پر دستخط کیے، جس میں نام نہاد “بورڈ آف پیس” کا آغاز کیا گیا۔ بورڈ کے چیئرمین خود ٹرمپ ہیں اور ان کے مطابق ” بورڈ آف پیس ” پہلے غزہ کے مسئلے کو حل کرے گا اور پھر “دیگر تنازعات” کو حل کرنے کے لیےاپنا دائرہ کار وسیع کرے گا۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ کا متوازی ادارہ بنانے کی یہ کوشش اقوام متحدہ کے وقار اور میکانزم کو مزید کمزور کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں