سیمئور ہرش 57

امریکا نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا

واشنگٹن(رپورٹنگ آن لائن)معروف اور ایوارڈ یافتہ امریکی صحافی سیمئور ہرش نے دعوی کیا ہے کہ امریکا نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو ممکنہ طور پر زبردستی ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق امریکی صحافی سیمئور ہرش کا کہناتھا کہ اگر صدر زیلنسکی نے اقتدار نہیں چھوڑا تو انہیں زبردستی ہٹا دیا جائے گا اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ خود مستعفی نہیں ہوں گے۔سیمئور ہرش کے مطابق یوکرین کے سابق کمانڈر ان چیف اور اس وقت برطانیہ میں یوکرین کے سفیر ویلیئری زالزنی زیلنسکی کے ممکنہ متبادل ہوں گے اور یہ تبدیلی آئندہ چند مہینوں میں عمل میں لائی جا سکتی ہے۔سیمئور ہرش کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور یوکرین کے اندر کئی حلقے سمجھتے ہیں کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ جنگ کے بجائے سمجھوتہ کیا جانا چاہیے اور جنگ کو اب ختم ہونا چاہیے۔

ہرش نے یہ بھی یاد دلایا کہ صدر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختلافات اس وقت منظرعام پر آئے تھے جب زیلنسکی وائٹ ہاؤس کے دورے پر تھے۔ دورانِ گفتگو صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کی پالیسیوں پر کھلے عام تنقید کی تھی اور انہیں الیکشن کے بغیر ڈکٹیٹر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی مقبولیت صرف 4 فیصد رہ گئی ہے۔سیمئور ہرش نے رواں سال کے آغاز میں بھی پیش گوئی کی تھی کہ زیلنسکی کو ایک سال کے اندر ہٹا دیا جائے گا کیونکہ جنگ کے بعد ان کا یوکرین میں کوئی سیاسی مستقبل نہیں بچا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں