المالک گارڈن 27

المالک گارڈن اسکینڈل، چار ایکڑ اراضی پر ہزاروں پلاٹوں کی فائلیں فروخت کرنے کا الزام، مقدمہ درج، نیب اور ایف آئی اے بھی متحرک، جعلسازوں میں تھرتھلی مچ گئی

(رپورٹنگ آن لائن)لاہور کے علاقے باٹا پور کے قریب بی آر بی نہر کے اطراف قائم مبینہ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیم “المالک گارڈن” سے متعلق بڑے فراڈ کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس اسکیم کے نام نہاد منتظمین خرم شہزاد وغیرہ پر شہریوں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

المالک گارڈن
المالک گارڈن

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے مبینہ مرکزی کردار خرم شہزاد اور اس کے بعض ساتھیوں کے خلاف لاہور کے تھانہ مناواں میں مقدمہ نمبر 648 سال 2026 درج کر لیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے شعبہ میٹروپولٹن کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمر مجید کی مدعیت میں درج کیا گیا یے۔مقدمے کے اندراج کے بعد ایل ڈی اے نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

المالک گارڈن
المالک گارڈن

بتایا جاتا ہے کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی جانب سے شہر میں غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران اس منصوبے کے معاملات سامنے آئے۔ ذرائع کے مطابق کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بھی ممکنہ طور پر اس معاملے میں تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔

المالک گارڈن
المالک گارڈن

ابتدائی معلومات کے مطابق باٹا پور کے قریب قائم اس منصوبے کا اصل رقبہ مبینہ طور پر محض چار ایکڑ بتایا جاتا ہے، تاہم الزام ہے کہ انتظامیہ نے اس سے کہیں زیادہ یعنی تقریباً 100 ایکڑ سے زائد رقبے کے نام پر ہزاروں پلاٹوں کی فائلیں فروخت کیں۔ اس مبینہ عمل کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہریوں کے مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

المالک گارڈن
المالک گارڈن

دریں اثنا ایک اہم قانونی پیش رفت میں “المالک ڈویلپرز” نامی کمپنی نے بھی خرم شہزاد اور اس کے ساتھیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کمپنی کے نام اور ساکھ کا مبینہ طور پر غلط استعمال کر رہے ہیں۔

المالک گارڈن
المالک گارڈن

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے خرم شہزاد اور دیگر افراد کو “المالک ڈویلپرز” کا نام استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے ایک اشتہار میں بھی کمپنی کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ اس کا “المالک گارڈن” نامی کسی اسکیم سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسری جانب متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی جمع پونجی پلاٹوں کی فائلوں کی صورت میں اس امید پر لگائی تھی کہ انہیں قانونی رہائشی منصوبے میں پلاٹ فراہم کیے جائیں گے۔

متاثرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈی جی ایل ڈی اے سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ شہریوں کو انصاف فراہم کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں