طارق فضل چوہدری 38

افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری دہشتگردی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف جاری دہشتگردی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی،کرک میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے قافلے پر بزدلانہ حملہ، شکردرہ (کوہاٹ) میں ڈی ایس پی اسد محمود سمیت اہلکاروں کی شہادت اور بھکر میں خودکش دھماکہ یہ سب واقعات اس امر کا ثبوت ہیں کہ ریاستِ پاکستان کو ایک منظم سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جمعرات کو سماجی رابطہ کی ویب سائٹ” ایکس” پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں معصوم جانوں کا خون بہانا اس بات کی دلیل ہے کہ ان دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی پختون روایات سے،یہ عناصر اپنے خودساختہ نظریات کی تکمیل کے لیے انسانیت کی ہر حد پار کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بارہا مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین کو فتنہ الخوارج اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے مگر اس کے برعکس پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت اور دراندازی ہماری خودمختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان واضح کرنا چاہتی ہے کہ قومی سلامتی، وقار اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر سیاسی وابستگی اور مفاد سے بالاتر ہے، اس جنگ کا جواب مکمل قومی اتحاد، عوامی حمایت اور فولادی عزم سے دیا جائے گا۔ ہماری سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قوم کی مکمل تائید کے ساتھ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں،آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دشمن کے مذموم عزائم کا مقابلہ کریں، پاکستان کے خلاف ہونے والی اس دہشتگردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے امن، خودمختاری اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، قوم متحد ہے، افواج مستعد ہیں اور ہر قربانی کا حساب لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں