معید یوسف 182

افغانستان کو فراموش کرنا ایک سنگین غلطی ہو گی،معید یوسف

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ افغانستان کو ایک بار پھر فراموش کر دینا عالمی برادری کی ایک سنگین غلطی ہو گی۔

وہ سینڑ فار ائرو سپیس اینڈ سیکورٹی سٹڈیز(کیس) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک بین الاقوامی ویبنار سے خطاب کر رہے تھے جس کا موضوع افغانستان کا مستقبل اور خطے کا استحکام ، چیلنجیز، مواقع اور مستقبل کا لائحہ عمل’ تھا۔ ڈاکٹرمعید کے مطابق عالمی برادری کو افغان ریاستی ڈھانچے کے بکھرنے اور مہاجرین کے مزید بحران سے بچنے کے لئے نئی افغان حکومت سے مثبت روابط استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر معید کا کہنا تھا کہ سوویت ـ افغان مجاہدین تنازعے کے بعد مغربی دنیا کی جانب سے افغانستان کو فراموش کر دینا اور اپنے قریب ترین حلیف پاکستان پر پابندیاں عائد کر دینا سنگین غلطیاں تھیں جن کا خمیازہ سب سے زیادہ پاکستان نے اسی ہزار جانوں ، ایک سو پچاس ارب ڈالر کے معاشی نقصان اور پینتس لاکھ مہاجرین کی صورت میں بھگتا ہے۔

ڈاکٹر لانگ شن چن جوکہ چینی چنگڈو انسٹیٹیوٹ برائے عالمی امور کے صدر ہیں کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تعمیر نو کے لئے اس کے ہمسایہ ممالک خصوصا پاکستان کو ایک کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کو سی پیک کے ذریعے گوادر کی بندرگاہ سے منسلک کرنے کے نتیجے میں افغان معیشت کو گراں قدر فوائد حاصل ہو سکتے ہیں البتہ بڑی طاقتوں کو افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت سے باز رہنا چاہیے اوراس کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جوکہ سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں۔روس کے سیاسی امور کے ماہر لیونڈ سیون نے کہا کہ افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد علاقائی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہونگے۔

ان کے مطابق چین کی جانب سے نئی افغان حکومت کو تسلیم کرنے کی صورت میں روس بھی نئی انتظامیہ کو تسلیم کر سکتا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی ممالک خصوصا پاکستان، چین ، ایران اور وسطی ایشیاء کے ممالک کے مابین مستقبل میں تعاون خطے پر مثبت اثرات مرتب کرسکتا ہیالبتہ روس افغانستان کے حوالے سے مغربی ممالک سے روابط میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔ سلام یونیورسٹی کابل کے پروفیسر ڈاکڑ فضل الھادی وزین نے کہا کہ بین الا قوامی برادری کو افغانستان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور نئی حکومت کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ ایک ہمہ جہتی سیاسی نظام اور عدم تشدد کے حوالے سے کیے گئے اپنے وعدے پورے کر سکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری اور افغانیوں کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہییں تاکہ نئے چیلنجیز کا مل کر مقابلہ کیا جاسکے۔قائد اعظم یونیورسٹی کے ڈاکڑ سید قندیل عباس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران دونوں ممالک مستقبل میں ایک ہمہ جہتی اور مستقل سیاسی حکومت کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں افغان طالبان کی حکومت کے زوال اور امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی کو ایران میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا البتہ افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے سے صورت حال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عبوری حکومت کے چونتیس میں سے اکتیس اراکین پشتون ہیں اور مستقبل میں خانہ جنگی کے خطرات کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مستقل افغان حکومت میں مزید غیر پشتون افراد کو نمائندگی دی جائے۔سینڑ فار ائرو سپیس اینڈ سیکورٹی سٹڈیز(کیس) کے قائم مقام صدر اور سابق وائس چیف آف ائر اسٹاف ائر مارشل فرحت حسین خان ( ر) نے اس ویبنار کی صدارت کرتے ہوئے دنیا سے یہ اپیل کی کہ افغانستان اور اس خطے پر تمام تر تجربات کے بعد اب امن کو ایک موقع دینے کا وقت آچکا ہے۔ انھوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا کہ عالمی برادری افغان عوام کے دکھ درد سے غفلت برت رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقائی ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مشترکہ مفادات کے پیش نظرافغانستان میں امن و استحکام کے قیام کے لئے کلیدی کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق علاقائی روابط کے پروجیکٹس خصوسا سی پیک اس پورے خطے کی خوش حالی کے لئے ایک اہم نوید ہے جبکہ افغانستان کو انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت خوراک اور ادویات کی فوری فراہمی ، سفارتی روابط اورمعاشی اثاثوں کی بحالی اور تعمیر نو کی اشد ضرورت ہے۔اس ویبنار کی میزبانی کے فرائض سید محمد علی ، ڈایکڑ نیوکلیر اینڈ اسٹریجک افیرز نے سر انجام دئیے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تاریخ عالمی تنازعات اور ان کے بعد افغان قوم سے مکمل پہلو تہی پر مبنی ہے۔ اس لئے نئی افغان حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ عالمی برادری کی مدد سے ایک مستحکم ریاست کی تعمیر نو کرے اور عالمی برادری سے اپنا یہ وعدہ کہ وہ افغان سر زمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے کو پورا کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں