محمد برجیس 19

آنے والے دن خطے میں بڑی اور حساس تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہیں، برجیس طاہر

ننکانہ صاحب(رپورٹنگ آن لائن)سابق گورنر اور وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان چوہدری محمد برجیس طاہر مرکزی نائب صدر مسلم لیگ(ن)نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں خطے کے اندر حساس اور ڈرامائی تبدیلیوں کے واضح آثار دکھائی دے رہے ہیں، جن کے پاکستان سمیت پورے جنوبی ایشیا پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کی بحالی صرف معاشی معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑے اسٹریٹجک بندوبست کا حصہ محسوس ہوتی ہے حالیہ عرصے میں اسرائیل، بھارت، افغانستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتیں خطے میں نئی صف بندی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ ان کے خیال میں یہ پیش رفتیں بظاہر الگ الگ دکھائی دیتی ہیں مگر درحقیقت ایک وسیع جغرافیائی سیاسی منظرنامے کی تشکیل ہو رہی ہے جس پر پاکستان کو انتہائی سنجیدگی سے نظر رکھنا ہوگی۔

برجیس طاہر نے کہا کہ اگر امریکہ اور بھارت کے تجارتی روابط مکمل طور پر بحال ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ اسرائیل و افغانستان کی شمولیت سے کوئی غیر اعلانیہ بلاک بنتا ہے تو اس کے اثرات خطے کے طاقت کے توازن پر پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ حالات میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، تاہم پاکستان کو پیشگی سفارتی اور معاشی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ بدلتی عالمی صف بندی میں فعال اور متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرے تاکہ کسی بھی ممکنہ دبا سے بچا جا سکے۔

ان کے مطابق خطے میں معاشی تعاون، تجارتی تنوع اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے چوہدری برجیس طاہر نے کہا کہ عمران خان کی بنی گالا منتقلی ایک نئے سیاسی تماشے کو جنم دے سکتی ہے اور اس کے اثرات داخلی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور متفقہ قومی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو آنے والے علاقائی منظرنامے کو مدنظر رکھتے ہوئے بروقت فیصلے کرنا ہوں گے کیونکہ عالمی اور علاقائی طاقتوں کی نئی صف بندی جنوبی ایشیا کی سیاست اور معیشت پر دور رس اثرات ڈال سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں