رپورٹنگ آن لائن۔
یہ سسٹم اینالسٹ محمد سلیم، پروگرامر یونس کا کیا دھرا ہے انہوں نے منظم طریقے سے موٹی دیہاڑی لگائی اور ساتھ ہی ڈائیریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب محمد علی کو گمراہ کیا۔ ایسا کہنا تھا ڈائیریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ریجن سی لاہور محمد آصف کا۔
اپنے بولڈ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے ڈائیریکٹر موٹر برانچ محمد آصف کہتے ہیں کہ ری ویپمنگ کے خلاف ان کے سوا کسی ڈائیریکٹر نے آواز نہ اٹھائی۔ میں نے ڈائیریکٹرز کے گروپ میں بھی لکھا کہ ری ویپمڈ نظام کو پہلے کسی چھوٹے ضلع میں نافذ کیا جائے لیکن سسٹم اینالسٹ محمد سلیم اور پروگرامر یونس نے ڈائریکٹر جنرل کو مس گائیڈ کرتے ہوئے کہا کہ 4 سے 5 دنوں میں نیا نظام لاگو کر دیا جائیگا اور ڈی جی ایکسائز ان کی باتوں میں آگئے۔
محمد آصف کا کہنا تھا کہ ایکسائز سکینڈل کے متعلق انہوں نے دسمبر میں آگاہ کر دیا تھا ان کے پاس پانچ انچ موٹی فائل پڑی ہے جس میں ری ویپمنگ میں پائے جانے والے نقائص کی شکایات کا ریکارڈ محفوظ ہے۔
ڈائیریکٹر موٹرز کا کہنا تھا کہ بار بار خط لکھنے کے باوجود انہیں اپنے ہی محکمے میں اپنے ہی ریکارڈ تک رسائی نہیں دی گئی جو کہ آئی ٹی بورڈ اور ایکسائز کے آئی ٹی ماہرین کی بد نیتی کو ظاہر کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں جب بھی ڈائیریکٹرز کانفرنس یا کسی میٹنگ میں نئے کمپیوٹرائزڈ نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خامیوں یا نقائص سے متعلق ڈی جی کو آگاہ کرتا تو متذکرہ بالا آئی ٹی ایکسپرٹ مختلف ماڈیولز کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چند منٹوں یا کچھ ہی گھنٹوں میں تمام مسائل کو حل ہوتا دکھا دیتے اور ڈی جی ان پر یقین کرلیتے۔









