آرٹیکل 54 161

آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق 21مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا چاہئے تھا، سپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی ، شیری رحمن

اسلام آباد (ر پورٹنگ آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری ر حمن نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 54 کے مطابق 21مارچ کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا چاہئے تھا،25 مارچ کو اجلاس بلا کر اسپیکر نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ آئین میں اس بات کی گنجائش ہی نہیں کہ پارلیمنٹ بلڈنگ کی تزئین و آرائش کے باعث اسمبلی اجلاس تاخیر سے بلایا جائے۔ انہوںنے کہاکہ اسپیکر کے وضاحت ناقابل قبول ہے، آئین میں کہیں نہیں لکھا ارکان پارلیمنٹ پارٹی لیڈر کی مرضی کے بنا ووٹ نہیں دے سکتے۔ انہوںنے کہاکہ آئین میں نہیں لکھا کہ پارٹی کے حکم پر اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے، حکومت ارکان پارلیمنٹ سے ووٹ کا حق نہیں چھین سکتی ۔ انہوںنے کہاکہ ووٹ دینے سے پہلے ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آرٹیکل 63 اے کے مطابق کاروائی نہیں ہو سکتی، آرٹیکل 63 اے بالکل واضع ہے، وزیرعظم اور حکومت ارکان کو ڈرانا دھمکانا بند کرے۔

انہوںنے کہاکہ ریکوزیشن سے پہلے وزراء اپوزیشن کو عدم اعتماد لانے کا چیلنج دیتے رہے، ریکوزیشن کے بعد وزیراعظم نے کہا ان کی دعا قبول ہو گئی ہے، بعد میں وزیراعظم نے اپنے ہی ارکان پر پیسے لینے کا الزام لگایا اور دھمکیاں دیں ۔ انہوںنے کہاکہ اب ان ہی ارکان کو واپس آنے کی منت سماجت کر رہے، کیا وزیراعظم فیک نیوز پھیلا رہے تھے؟ ۔ انہوںنے کہاکہ کیا وزیراعظم ان ارکان کا ووٹ چاہتے ہیں جن پر انہوں نے پیسے لینے کا الزام لگایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں