لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے، جماعت اسلامی اس کالے قانون کو کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی ہدایت پر 7 دسمبر کو صوبے بھر میں بھرپور احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔
اس امر کا اظہار انہوں نے صوبائی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈاکٹربابر رشید ، رانا عبدالوحید،چوہدری امتیاز بریار موجود تھے جبکہ ذکر اللہ مجاہد ،مہر بہادر خان،رانا تحفہ دستگیر و دیگر بھی آن لائن موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی، حقیقی جمہوری ڈھانچے کے قیام اور متناسب نمائندگی کے تحت شفاف انتخابات کی حامی رہی ہے، لیکن موجودہ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بیورو کریسی کے تابع بنا کر عوامی فیصلہ سازی کا حق چھین لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فارم 47 کی اسمبلی نے جس لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کو منظور کیا ہے وہ آئین پاکستان سے متصادم ہے۔
اس قانون کے ذریعے انتظامی، مالیاتی اور فیصلہ کن اختیارات منتخب نمائندوں سے چھین کر افسر شاہی کو دے دیے گئے ہیں، جس کی آئین میں کوئی گنجائش موجود نہیں۔ محمد جاوید قصوری نے کہا کہ آئین کے مطابق اختیارات نچلی سطح تک منتخب نمائندوں کو منتقل کرنا لازم ہے، لیکن موجودہ قانون اختیارات کی منتقلی کے بجائے اختیارات پر قبضے کی کوشش ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ بھی آئین کے آرٹیکل 17 کی صریح خلاف ورزی ہے، جو شہریوں کو سیاسی وابستگی، تنظیم سازی اور جماعتی فعالیت کی مکمل آزادی دیتا ہے۔
غیر جماعتی انتخابات دراصل عوام کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کی کوشش اور جمہوری نظام کے بنیادی ڈھانچے سے انحراف ہے۔اجلاس سے خطاب میں محمد جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی وہ تمام شقیں جو بیورو کریسی کو غیر آئینی اختیارات دیتی ہیں اور غیر جماعتی انتخابات سے متعلق ہیں، انہیں فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔
انہوں نے تمام اضلاع کے ذمہ داران کو ہدایت کی کہ 7 دسمبر کے صوبہ گیر احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دیں، عوام کو اس جمہوری جدوجہد میں بھرپور طریقے سے شریک کریں اور ہر سطح پر غیر آئینی اقدامات کے خلاف آواز بلند کریں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی محافظ ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، بااختیار بلدیاتی ادارے اور جمہوری عمل کی بحالی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔









