کراچی (رپورٹنگ آن لائن)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر جمعہ کے روز دی گئی احتجاجی کال سیاسی جماعتوں، بزنس کمیونٹی، تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جماعتوں اور جی ڈی اے قیادت سے باہمی مشاورت کے بعد وقتی طور پر ملتوی کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی صورت ریسکیو آپریشن اور ملبہ ہٹانے کے عمل میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتی اور نہ ہی کرپٹ حکومت کو الزام تراشی کا موقع دیا جائے گا۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ گل پلازہ پر پی ٹی آئی کا ریلیف کیمپ پہلے دن سے قائم ہے اور امدادی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود موقع پر موجود رہے، صورتحال انتہائی افسوسناک ہے، کئی لاشیں تاحال ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے، گزشتہ روز بھی ملبے سے لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ متعدد لاپتہ افراد کی کی تلاش جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج ختم نہیں کیا گیا بلکہ صرف ملتوی کیا گیا ہے۔ اگر متاثرہ تاجروں کو مکمل معاوضہ فراہم نہ کیا گیا، اگر گل پلازہ کی ازسرِنو تعمیر عمل میں نہ لائی گئی اور اگر ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا نہ دی گئی تو پی ٹی آئی سندھ دیگر سیاسی جماعتوں کے ہمراہ دوبارہ احتجاج کا اعلان کرے گی۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ یہ کوئی دور دراز علاقے کا واقعہ نہیں تھا، بروقت اور مثر ریسکیو ممکن تھا مگر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ کراچی کو جان بوجھ کر لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے اور شہر میں آئے روز ہونے والے سانحات اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں۔انہوں نے سندھ حکومت، کے ایم سی ، میئر اور ایس بی سی اے کو سانحہ گل پلازہ کا براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریسکیو اور ملبہ ہٹانے کا عمل ناقابلِ قبول حد تک سست ہے۔
اس سانحے میں اربوں روپے کا مالی نقصان اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں کو مکمل معاوضہ دیا جائے، گل پلازہ کی تعمیر فوری طور پر کی جائے، شہدا کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ ادا کیا جائے اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے عملی اور مثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو پینسٹھ فیصد ٹیکس دینے والے تاجر اگر لاوارث ہیں تو یہ ریاستی ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی شہدا کے ورثا اور متاثرہ تاجروں کو تنہا نہیں چھوڑے گی، ہمارے تمام ساتھی متاثرین کے درمیان موجود ہیں اور آئندہ بھی موجود رہیں گے۔









