سانائے تاکائیچی 22

جاپانی عسکریت پسندی کے دوبارہ سر اُٹھانے سے ہوشیار رہنا چاہیے، متعدد ممالک کی شخصیات

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کی جانب سے حال ہی میں تائیوان کے حوالے سے دئیے گئے غلط بیانات کے حوالے سے متعدد ممالک کی شخصیات کا کہنا ہے کہ تائیوان کا معاملہ محض چین کا اندرونی معاملہ ہے۔ سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں جاپان کے فاشسٹ ماضی کے جرائم پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور عالمی برادری کو جاپانی عسکریت پسندی کے دوبارہ سر اُٹھانے سے ہوشیار رہنا چاہیے۔

پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے 28 نومبر کو کہا کہ اسلام آباد ایک چین کے اصول پر سختی سے کاربند ہے۔ پاکستان عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کو پورے چین کی واحد جائز حکومت تسلیم کرتا ہے اور تائیوان کو چین کا اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے، اور “دو چین” یا “ایک چین ایک تائیوان” کے کسی بھی اقدام کی مخالفت کرتا ہے۔

میانمار انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سیکریٹری جنرل کھن مونگ زاو نے کہا کہ ایک چین کا اصول دنیا بھر کے ممالک نے تسلیم کر رکھا ہے۔ جاپان کے بعض سیاست دان ماضی کی غلطیوں پر کوئی پچھتاوا نہیں رکھتے اور یہ رویہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانا ہے۔

بولیویا کے سابق وزیر خارجہ واناکونی نے کہا کہ جاپانی وزیر اعظم کے بیانات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 کو دہرانا ضروری ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا میں صرف ایک چین ہے اور تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے۔جاپان کو اپنے تاریخی جرائم کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اورعسکریت پسندی کے راستے پر دوبارہ نہیں چلنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں