چین

چین کی جانب سے ” جنوبی بحیرہ چین کا ثالثی کیس دوبارہ مسترد” نامی رپورٹ جاری

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) ہوایانگ میرین ریسرچ سینٹر، چائنا ساؤتھ چائنا سی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور چائنیز سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی رپورٹ ” جنوبی بحیرہ چین کے ثالثی کیس دوبارہ مسترد” بیجنگ میں جاری کی گئی۔ رپورٹ میں جنوبی بحیرہ چین میں متعلقہ تنازعات کی وضاحت کی گئی ، اور جنوبی بحیرہ چین میں ثالثی کے فیصلے کے دائرہ اختیار کے معاملات کا تجزیہ کیا گیا ، ثالثی کے فیصلے کی قانونی تشریح اور اطلاق اور تاریخی حقوق، اور جزائر کی حیثیت، اور ثالثی ٹربیونل کی نمائندگی جیسے معاملات پر حقائق کا تعین کیا گیا ، تاکہ بین الاقوامی برادری کو ثالثی فیصلے کی غلط فہمی اور بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کو اس کے نقصانات کے بارے میں حقائق سے آگاہ کیا جا سکے ۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ فلپائن کی جانب سے یکطرفہ طور پر شروع کیے گئے نام نہاد “ساؤتھ چائنا سی آربیٹریشن کیس ” کو جاری ہوئے آٹھ سال گزر چکے ہیں اور جنوبی بحیرہ چین میں علاقائی خودمختاری اور سمندری حد بندی کے تنازعے کا حل فراہم کرنے کے بجائے، فلپائن نے پہلے سے ہی پیچیدہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے کے تصفیے کو مزید مشکل بنا دیا ہے، جس سے سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن کے وقار کو نقصان پہنچا ہے، اور کنونشن کے ارکان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے کہ آیا کنونشن کے تنازعات کے تصفیے کے طریقہ کار کو صحیح طریقے سے استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

رپورٹ کا مقصد بین الاقوامی برادری کے سامنے ثالثی کیس کی تشکیل کے سیاسی پس منظر اور ثالثی کے فیصلے کی تاریخی غلطیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کی حکمرانی اور سمندری نظم و نسق کو ہونے والے ناقابل تلافی اور سنگین نقصانات کو مزید اجاگر کرنا ہے۔

چین نے متعلقہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے، بحری تعاون کے ذریعے اختلافات کو کم کرنے اور قواعد کی تشکیل کے ذریعے بحرانوں سے نمٹنے کے درست راستے پر واپس آئیں۔