چیف الیکشن کمشنر

انتخابی نظام میں شفافیت یقینی بنا رہے، بلدیاتی الیکشن بہت اہم ہیں، چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن ) چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن وقت کے ساتھ ساتھ احسن اقدامات اٹھا رہا ہے، انتخابی نظام میں شفافیت یقینی بنائی جا رہی ہے، الیکشن کمیشن کے اقدامات میں اداروں کا کردار بہت اہم ہے، میڈیا نے الیکشن کمیشن کے مختلف ایکشنز کو پوری طرح سپورٹ کیا، جس نے بھی خلاف ورزی کی اس کے خلاف ایکشن لیا گیا، ملک کے لئے سب سے اہم الیکشن بلدیاتی الیکشن ہیں، نئی حلقہ بندیوں کیلئے الیکشن کمیشن کو مناسب وقت درکار ہے۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن وقت کے ساتھ ایسے اقدامات اٹھارہا ہے ، جس کی وجہ سے نہ صرف انتخابی نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جارہا ہے ، بلکہ وہ عناصر جنہوں نے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی ان کے خلاف بروقت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ،ان اقدامات سے انتخابات جمہوری عمل اور الیکشن کمیشن کے عوام پر اعتماد میں اضافہ ہوگا ، الیکشن کمیشن کے ان اقدامات میں تمام اداروں اور میڈیا کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ، میڈیا الیکشن کمیشن کے مختلف ردعمل کو رپورٹ کیا ہے ، الیکشن کمیشن کو غیر سنجیدہ معاملات کا احساس ہے ، الیکشن کمیشن میڈیا کا مشکور ہے ، کوڈ آف کنڈیکٹ تو بنا دیا جاتا تھا مگر عمل درآمد نہیں ہوتا تھا ، الیکشن کمیشن کی نظر میں سب برابرہیں کوئی عہدیدار نہیں اگر کسی نے کوٹ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلا ف بھرپور ایکشن لیا ، الیکشن کمیشن کسی قسم کی رعایت نہیں برتے گی ، مختلف انتخابات میں حکومتی عہدیدران اور وزراءشامل تھےء، الیکشن کمیشن نے رواں سال اپنے آئینی وقانونی فرائض کی تکمیل کی بلدیاتی انتخابات ہمارے لئے مشکل مرحلہ تھا ، صوبائی حکومت بلدیاتی انتخابات کیلئے بالکل تیار نہ تھی ۔

آئین کے آرٹیکل 148کے تحت صوبائی حکومتیں صوبائی جو قوانین بناتی ہیں ان پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے ، الیکشن کے مینڈیٹ کے ٹائم پیریڈ کے مطابق بلدیاتی انتخابات ہونے ہوتے ہیں، اگروہ گزر بھی جائیں تو اس میں آئین وقانون خاموش تھا ۔ ان وجوہاٹ کی بنا پر تاخیر ہوگی میری نظر میں ملک کیلئے سب سے اہم بلدیاتی انتخابات ہیں،الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہے ، کوئی بھی صوبائی حکومت مقامی حکومتوں کے انتخابات کے انعقاد کیلئے کبھی بھی تیار نہیں ہوتیں ، تاہم الیکشن کمیشن کی مسلسل کوشش سے خیبرپختونخوا میں انتخابات کا عمل 31مارچ 2022کو مکمل کیا ، اس طرح کنوٹمنٹ بورڈ کے انتخابات کے دوران پرامن انعقاد کو یقینی بنایا گیا اس کے علاوہ بلوچستان کے 32اضلاع میں 24مئی 2022کو انتخابات کا عمل مکمل کیا گیا ، بلوچستان میںسیلات کے باعث دیگر اضلاع میں ملتوی ہونے والے بلدیاتی انتخابات11 دسمبر 2022کو کرائے جارہے ہیں، اسلام آباد کے انتخابات کا شیڈول جاری کردیا گیا ، جس کی پولنگ 31دسمبر 2022کو ہوگی ، سندھ میں ہونے والے انتخابات میں 4 ڈویژنز میں انتخاات کا انعقاد 26جون 2022 کو ہوا ، سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے باعث کرای ڈویژنز اور حیدر آباد ڈویژنز کے انتخابات موخر کئے گئے تھے ان ڈویژنز میں 15جون 2023کو پولنگ ہوگی ،

پہلا فیز مکمل ہوچکا جبکہ دوسرا فیز 15جنوری کو مکمل ہوگا ، الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کیلئے دوبارہ حلقہ بندیوں کا سلسلہ مکمل کیا ، صوبائی حکومت نے بار بار قوانین میں ترامیم کے باعث انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہوسکا ۔ پنجاب کا کیس دلچسپ ہے ، حلقہ بندیوں کا کام آسان نہیں ہوتا ، حلقہ بندیوں کیلئے 3سے 4چار ماہ درکار ہوتے ہیں، جب بھی حلقہ بندیوں کے مکمل کرکے انتخابات کے نزدیگ پہنچا گیا اس وقت کی صوبائی حکومت نے لوکل حکومت کے قوانین کو تبدیل کردیتی تھیں ۔ جس کے باعث دوبارہ حلقہ بندیاں کرنا پڑتی تھیں الیکشن کمیشن تیسری بار حلقہ بندیاں کرنے کیلئے اقدامات اٹھارہا ہے ، الیکشن کمیشن صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے تیار ہے ، صوبائی حکومت کو پابند بنایا گیا تاکہ وہ الیکشن کے انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں اور بیرونی فنڈ بھی مہیا کریں ، پہلے لوکل حکومت کے قوانین کو تبدیل کیا گیا پھر بجٹ میں نہیں ہوتا ، اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے بجٹ کے بغیر انتخابات کو یقین بنایا ، پنجاب کے بلدیاتی انتخابات اپریل 2023آخری ہفتے میں ہوں گے ۔

پنجاب حکومت کو اپریل کے آخری ہفتے میں بلدیاتی انتخابات کو ہر صورت مکمل کرنے کا پابند بنایا گیا ہے ، پنجاب حکومت کو واضح احکامات جاری کئے گئے کہ اگر لوکل گورنمنٹ کے قوانین میں تبدیل رونما کی گئی تو الیکشن کمیشن پچھلے قانون آرٹیکل 218تھری کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرے گا ، 21-2022میں قومی اسمبلی کے 17اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات کروائے گئے ، عموماً تاثر دیا کہ ضمنی الیکشن حکومت وقت دیتی ہے ، مگر کل ضمنی انتخابات میں 35اس وقت کی اپوزیشن اور 16اس وقت کی حکومت کی ، حکومت ان انتخابات میں انعقاد کراسکتی ہیں۔ تمام ضمنی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسرز اور مانیٹرنگ کی گئی ان خلا ف ورزیوں پر مختلف عہدیدران کے خلاف ایکشن بھی لیا ۔