امریکی وزیر خارجہ

اسرائیل کے پاس رفح کے لوگوں کے تحفظ کے لیے قابل اعتماد منصوبہ نہیں، امریکہ

واشنگٹن(رپورٹنگ آن لائن)امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے اسرائیل کو ساڑھے 3ہزار بموں کی فراہمی روکنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ اسرائیل کے پاس رفح کے لوگوں کے تحفظ کے لیے قابل اعتماد منصوبے کا فقدان ہے۔

غیرملکی خبررساں ادرے کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل ان ساڑھے 3ہزار بموں کو رفح میں پناہ لینے والے 14لاکھ باشندوں پر استعمال کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر جو بائیڈن اسرائیل کے دفاع کے لیے ان کی مدد کے لیے پرعزم ہیں اور 2ہزار اور 500 پانڈ وزنی ساڑھے تین ہزار بموں کی کھیپ وہ واحد امریکی ہتھیاروں کا پیکج ہے جسے روکا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل رفح پر بڑے پیمانے پر حملہ کرتا ہے تو یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔اسرائیل کا کہنا تھا کہ وہ حماس کے جنگجوئوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے رفح پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔انٹونی بلنکن نے کہا کہ جو بائیڈن نے اسرائیل پر واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ رفح میں اس بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کرتا ہے، تو کچھ ایسے نظام موجود ہیں جو وہ اسرائیل کی سپورٹ اور اسلحہ سپلائی نہیں کریں گے۔

امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ ہمیں ان ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے حقیقی خدشات ہیں، اسرائیل کو شہریوں کی حفاظت کے لیے ایک واضح اور قابل اعتبار منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے لیکن ہمیں ایسا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔رفح میں اس وقت تقریبا 14 لاکھ فلسطینی باشندے موجود ہیں جن میں سے اکثر غزہ میں تباہی کے بعد نقل مکانی کر کے وہاں پہنچنے ہیں اور اسرائیل کی شدید بمباری کے خوف کے ساتھ ساتھ انہیں خوراک اور پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی آپریشن میں اب تک شہید ہونے والے فلسطینی باشندوں کی تعداد 35ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔اس جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب جنوبی اسرائیل پر حماس نے کارروائی کرتے ہوئے تقریبا 1200 افراد کو مار ڈالا تھا اور 250 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔اسرائیل کا کہنا تھا کہ 7 ماہ سے زجاری لڑائی میں اس کے 620 فوجی مارے جا چکے ہیں۔